فچ نے پاکستانی معیشت کا آؤٹ لُک مستحکم قرار دے دیا

بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی َفچ نے پاکستانی معیشت کی بی مائنس ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے آؤٹ لُک (مستقبل کا معاشی منظر نامہ) مستحکم قرار دیا ہے۔

فچ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیوں کو دور کیا ہے۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے کہ مالی خسارہ کم ہوا ہے اور زرمبادلہ ذخائر بڑھے ہیں۔

فچ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا جاری خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.1 فیصد رہنے کے اندازے ہیں جب کہ آئندہ مالی سال میں جاری خسارہ جی ڈی پی کے 1.9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ اندرونی سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، ملک میں تجارت اور سیکیورٹی کے ماحول میں بہتری کی وجہ سے معاشی آؤٹ لک بہتر ہونے کی امید ہے۔

ایجنسی کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے لچک دار فارن ایکسچینج ریٹ کے باعث غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے اضافے میں مدد ملی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سخت مائیکرو اکنامک پالیسیوں کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی آئی ہے اور مالی سال 2020 میں یہ 2.8 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ گذشتہ مالی سال میں یہ شرح 3.3 تھی۔

فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قیمت میں گراوٹ اور انرجی ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 2019 میں 6.8 فیصد تھی جو  کے نئے مالی سال میں 11 اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔