دنیا کے سب سے بڑے مسلم آبادی والے ملک کے شہری حج نہیں کرسکیں گے

انڈونیشیا کی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث اپنے شہریوں کو رواں سال حج کیلئے سعودی عرب نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کیلئے سعودی حکومت نے رواں سال 2 لاکھ 21 ہزار عازمین کا کوٹا مقرر کیا تھا لیکن انڈونیشیا نے اپنے شہریوں کو کورونا وائرس کے پیش نظر نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزارت مذہبی امور فخر الرازی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انڈونیشین عازمین اس سال حج کا فریضہ ادا نہیں کرسکیں گے لہٰذا عازمین اگلے سال کے حج سیزن کیلئے خود کو تیار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ سعودی حکام کی جانب سے یقین دہانی میں ناکامی کے بعد کیا ہے کیونکہ وبا کی موجودگی میں حج کی ادائیگی میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔

رواں سال حج کیلئے 90 ہزار سے زائد انڈونیشین عازمین نے خود کو رجسٹر کرایا تھا اور کئی افراد نے حکومت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ سنگاپور نے بھی گزشتہ ماہ اپنے شہریوں کو کورونا کے باعث حج کیلئے نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب میں کورونا کے باعث اب تک 549 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 87 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

مکہ میں کرفیو نرم، عمرہ اور زیارت بدستور معطل رہیں گے

گزشتہ دنوں کورونا وبا کے باعث بند کیے جانے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد مسجد نبویﷺ کو نمازیوں کے لیے کھولا گیا ہے۔

حفاظتی انتظامات کے تحت مسجد کی مجموعی گنجائش کے مطابق 40 فیصد نمازیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔

مسجد نبوی ﷺ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے دوسرے شہروں کی مساجد میں بھی نماز کی باجماعت ادائیگی شروع ہو گئی ہے لیکن مسجد الحرام کو اب تک عام نمازیوں کے لیے نہیں کھولا گیا ہے اور عمرہ بھی معطل ہے۔